Suroor Ltd.

Suroor Ltd. All best consumer goods in single platform on wholesale prices
Powered By: SUROOR Ltd UK
(2)

13/06/2023
New..6 ltrs Copper Motor Imported Chopper for sale Rs.14000/= with DC..
13/06/2023

New..6 ltrs Copper Motor Imported Chopper for sale Rs.14000/= with DC..

High Quality Geniune Products..
12/04/2023

High Quality Geniune Products..

10/04/2023

والد نے ان کا نام محمد لطیف رکھا‘ وہ بڑے ہو کر چودھری محمد لطیف ہو گئے لیکن دنیا انہیں ”سی ایم لطیف“ کے نام سے جانتی تھی‘ وہ پاکستان کے پہلے وژنری انڈسٹریلسٹ تھے اور انڈسٹریلسٹ بھی ایسے کہ چین کے وزیراعظم چو این لائی‘ شام کے بادشاہ حافظ الاسد اور تھائی لینڈ کے بادشاہ ان کی فیکٹری دیکھنے کیلئے لاہور آتے تھے‘ چو این لائی ان کی فیکٹری‘ ان کے بزنس ماڈل اور ان کے انتظامی اصولوں کے باقاعدہ نقشے بنوا کر چین لے کر گئے اور وہاں اس ماڈل پر فیکٹریاں لگوائیں‘

سی ایم لطیف کی مہارت سے شام‘ تھائی لینڈ‘ ملائیشیا اور جرمنی تک نے فائدہ اٹھایا‘ وہ حقیقتاً ایک وژنری بزنس مین تھے‘ وہ مشرقی پنجاب کی تحصیل بٹالہ میں پیدا ہوئے‘ والد مہر میران بخش آرائیں اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلانا چاہتے تھے لیکن وہ لطیف صاحب کے بچپن میں فوت ہو گئے‘ لطیف صاحب نے والد کی خواہش کے مطابق اعلیٰ تعلیم حاصل کی‘ یہ 1930ء میں مکینیکل انجینئر بنے اور تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے دو کمروں اور ایک برآمدے میں اپنی پہلی مل لگائی‘ یہ صابن بناتے تھے‘ان کے چھوٹے بھائی محمد صدیق چودھری بھی ان کے ساتھ تھے‘ صدیق صاحب نے بعد ازاں نیوی جوائن کی اور یہ قیام پاکستان کے بعد 1953ء سے 1959ء تک پاکستان نیوی کے پہلے مسلمان اور مقامی کمانڈر انچیف رہے‘ لطیف اور صدیق دونوں نے دن رات کام کیا اور ان کی فیکٹری چل پڑی‘ یہ ہندو اکثریتی علاقے میں مسلمانوں کی پہلی انڈسٹری تھی‘ یہ صابن فیکٹری کے بعد لوہے کے کاروبار میں داخل ہوئے اور دیکھتے ہی دیکھتے علاقے میں چھا گئے اور لاکھوں میں کھیلنے لگے‘ پاکستان بنا تو ان کے پاس دو آپشن تھے‘ یہ اپنے کاروبار کے ساتھ ہندوستان میں رہ جاتے یا یہ کاروبار‘ زمین جائیداد اور بینک بیلنس کی قربانی دے کر پاکستان آ جاتے‘ سی ایم لطیف نے دوسرا آپشن پسند کیا‘ یہ بٹالہ سے لاہور آ گئے‘ لاہور اور بٹالہ کے درمیان 53 کلو میٹر کا فاصلہ ہے لیکن اگر حقیقی طور پر دیکھا جائے تو یہ دونوں شہر دو دنیاؤں کے فاصلے پر آباد ہیں‘

آزادی نے سی ایم لطیف کا سب کچھ لے لیا‘ یہ بٹالہ سے خالی ہاتھ نکلے اور خالی ہاتھ لاہور پہنچے‘ بٹالہ میں ان کی فیکٹریوں کا کیا سٹیٹس تھا؟ آپ اس کا اندازہ صرف اس حقیقت سے لگا لیجئے‘ ہندوؤں اور سکھوں نے ان کی ملوں پر قبضہ کیا‘ کاروبار کو آگے بڑھایا اور آج بٹالہ لوہے میں بھارتی پنجاب کا سب سے بڑا صنعتی زون ہے‘ سی ایم لطیف بہرحال پاکستان آئے اور 1947ء میں نئے سرے سے کاروبار شروع کر دیا‘ انہوں نے لاہور میں بٹالہ انجینئرنگ کمپنی کے نام سے ادارہ بنایا‘ یہ ادارہ آنے والے دنوں میں ”بیکو“ کے نام سے مشہور ہوا‘

بیکو نے پاکستان میں صنعت کاری کی بنیاد رکھی‘ لوگ زراعت سے صنعت کی طرف منتقل ہوئے اور ملک میں دھڑا دھڑ فیکٹریاں لگنے لگیں۔ سی ایم لطیف نے ملک میں بے شمار نئی چیزیں متعارف کرائیں‘ یہ سائیکل سے لے کر جہازوں کے پرزے تک بناتے تھے‘ بیکو گروپ یورپ سے لے کر چین اور جاپان تک مشہور تھا‘

جاپان اور چین کی حکومتیں اپنے لوگوں کو ٹریننگ کیلئے بیکو بھیجتی تھیں ‘ 1971ء میں پاکستان ٹوٹ گیا اور ذوالفقار علی بھٹو موجودہ پاکستان کے صدر بن گئے‘ بھٹو نے 1972ء میں ملک کے تما م صنعتی گروپ قومیا لئے ، یوں صدر کے ایک حکم سے ملک بھر کے تمام بڑے صنعت کار فٹ پاتھ پر آ گئے‘
آپ تصور کیجئے‘ ایک شخص جس نے 1932ء میں بٹالہ میں کام شروع کیا اور وہ جب وہاں سیٹھ بنا تو اس کا سارا اثاثہ آزادی نے لوٹ لیا‘ وہ لٹا پٹا پاکستان آیا‘ اس نے دوبارہ کام شروع کیا‘

ایک ایک اینٹ رکھ کر ایسی عمارت کھڑی کی جسے دیکھنے کیلئے دنیا کے ان ملکوں کے حکمران آتے تھے جنہیں مستقبل میں ”اکنامک پاورز“ بننا تھا لیکن پھر ایک رات اس کا سارا اثاثہ اس ملک نے چھین لیا جس کیلئے اس نے 1947ء میں اپنا سب کچھ قربان کر دیا تھا‘ آپ تصور کیجئے‘ اس شخص کی ذہنی صورتحال کیا ہو گی؟ سی ایم لطیف حوصلہ ہار گئے‘ وہ پاکستان سے نقل مکانی کر گئے‘ وہ جرمنی گئے اور جرمنی کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں زندگی گزار دی‘ انہوں نے دوبارہ کوئی کمپنی بنائی‘ کوئی کاروبار کیا اور نہ ہی کوئی فیکٹری لگائی‘ وہ طویل العمر تھے‘ ان کا انتقال 2004ء میں 97 سال کی عمر میں ہوا‘ وہ باقی زندگی صرف باغبانی کرتے رہے‘ ان کا کہنا تھا‘
دنیا کا کوئی شخص مجھ سے پودے اور پھول نہیں چھین سکتا‘
افضل رحمٰن لکھتے ہیں
اس المیے کا میں عینی شاہد ہوں۔ میرے سامنے فلیٹیز ہوٹل میں ڈاکٹر مبشر حسن نے صنعتوں کو قومیانے کا اعلان کیا۔ اگلے روز مال روڈ پر واقع بیکو کے صدر دفتر میں سی ایم لطیف کی جگہ ڈائیریکٹر انڈسٹریز پنجاب بیٹھا سگار پی رہا تھا۔
میں نے ریڈیو کے لئے انٹرویو کیا تو موصوف نے گول مول جواب دیے کیونکہ اس کو کچھ پتہ نہیں تھا بیکو کیا کچھ مینوفیکچر کرتا ہے۔
اس کے بعد کشمیر روڈ پر واقع میں سی ایم لطیف کے بنگلے پر گیا اور اندر پیغام بھیجا مگر انہوں نے ملنے سے انکار کر دیا۔ پھر درخواست کی مگر نہیں مانے۔
وائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہا
اور کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا
جنرل ضیاء الحق نے 1977ء میں انہیں بیکو واپس لینے کی درخواست کی لیکن سی ایم لطیف نے معذرت کر لی‘ 1972ء میں جب بھٹو نے سی ایم لطیف سے بیکو چھینی تھی‘ اس وقت اس فیکٹری میں چھ ہزار ملازمین تھے اور یہ اربوں روپے سالانہ کا کاروبار کرتی تھی لیکن یہ فیکٹری بعد ازاں زوال کا قبرستان بن گئی‘ حکومت نے اس کا نام بیکو سے پیکو کر دیا تھا‘ پیکو نے 1998ء تک اربوں روپے کا نقصان کیا‘
یہ ہر سال حکومت کا جی بھر کر خون چوستی تھی‘ بیکو ‘ بادامی باغ کے پسماندہ علاقہ میں تھی اسکی وجہ سے یہ علاقہ کبھی پاکستانی صنعت کا لالہ زار ہوتا تھا اور دنیا بھر سے آنے والے سربراہان مملکت کو پاکستان کی ترقی دکھانے کیلئے خصوصی طور پر بادامی باغ لایا جاتا تھا لیکن حکومت کی ایک غلط پالیسی اور ہماری سماجی نفسیات میں موجود حسد اور خودکشی کے جذبے نے اس لالہ زار کو صنعت کا قبرستان بنا دیا اور لوگ نہ صرف بیکو کی اینٹیں تک اکھاڑ کر لے گئے بلکہ انہوں نے بنیادوں اور چھتوں کا سریا تک نکال کر بیچ دیا اور یوں پاکستان کا سب سے بڑا وژنری صنعت کار اور ملک کی وہ صنعت جس نے جاپان اور چین کو صنعت کاری کا درس دیا تھا‘ وہ تاریخ کا سیاہ باب بن کر رہ گئی‘ آج حالت یہ ہے‘ وہ لوگ جن کے لیڈر پاکستان سے صنعت کاری کے نقشے حاصل کرتے تھے‘ وہ لوگ سی ایم لطیف کے ملک کو بلڈوزر سے لے کر ٹریکٹر اور ٹونٹی سے لے کر ہتھوڑی تک بیچتے ہیں اور سی ایم لطیف کی قوم یہ ساراسامان خرید کر پاک چین دوستی زندہ باد کے نعرے لگاتی ہے۔

ہم کیا لوگ ہیں‘ ہم 1972ء میں ملک کو کاروبار اور صنعت کا قبرستان بنانے والوں کی برسیاں مناتے ہیں لیکن ہمیں سی ایم لطیف جیسے لوگوں کی قبروں کا نشان معلوم ہے اور نہ ہی یہ معلوم ہے یہ زندگی کی آخری سانس تک پاکستان کو کس نظر سے دیکھتے رہے۔ یہ المیہ اگر صرف یہاں تک رہتا تو شاید ہم سنبھل جاتے‘شاید ہمارا ڈھلوان پر سفر رک جاتا لیکن ہم نے اب ڈھلوان پر گریس بھی لگانا شروع کر دی ہے‘ہم بیس کروڑ لوگوں کی قوم ہیں لیکن ارب پتی صرف دو ہیں‘
کیا کام کرنا‘ کیا ترقی کرنا جرم ہے؟ کیاہم بھی سیاستدانوں‘ بیوروکریٹس اور جرنیلوں کی طرح دوبئی‘لندن اور نیویارک میں بیٹھ جائیں‘کیا ہم بھی ایان علی بن جائیں‘ کیا ہم بھی اپنا پیسہ لیں اور ملک سے روانہ ہو جائیں؟

ہم اس ملک میں کام کرنے والے لوگوں کو سی ایم لطیف کی طرح دوسرے ملکوں میں کیوں دیکھنا چاہتے ہیں؟

مجھے اکثر اوقات محسوس ہوتا ہے‘ ہم اس ملک میں کام کرنے والوں اور ترقی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتے‘ وہ لوگ جو ریاست کے داماد بن کر پوری زندگی گزار دیتے ہیں‘ وہ ہمارے ہیرو ہوتے ہیں اور جو لوگ ملک بھر کے پیاسوں کے لیے کنؤیں کھودتے ہیں‘ہم جب تک سی ایم لطیف کی طرح انہیں کنؤیں میں نہ پھینک دیں‘ ہمیں اس وقت تک تسلی نہیں ہوتی‘ ہم محسنوں کو ذلیل کرنے والے لوگ ہیں‘ ہم نے اس ملک میں ملک بنانے والوں کو بخشا‘ ملک بچانے والوں کو بخشا اور نہ ہی ملک سنوارنے والوں کو بخشا‘ ہم نے صرف ملک توڑنے والوں کو سلام کیا -

20/03/2023
04/10/2022

Available on Saeed Super Store Model Colony

04/10/2022

Assalamualaikum , just dilute it in 20 or 25 ltrs of water you can use it in spary or mopping as u want.

Alhamdulilah our own Product 100% Pure...Rs.1600 per kg... available..
04/09/2022

Alhamdulilah our own Product 100% Pure...Rs.1600 per kg... available..

Assalamualaikum , just dilute it in 20 or 25ltrs of water you can use it in spary or mopping as u want.
30/08/2022

Assalamualaikum , just dilute it in 20 or 25ltrs of water you can use it in spary or mopping as u want.

Odourless, safe, Imported Ingredients..100% effective on Dengue Mosquitoes... Guaranteed..R.300/= each for 25ltrs of wat...
29/08/2022

Odourless, safe, Imported Ingredients..100% effective on Dengue Mosquitoes... Guaranteed..R.300/= each for 25ltrs of water..for spraying and Mopping..

29/08/2022
26/08/2022
26/08/2022

R.250/= Each for 20 ltrs...

17/10/2021

Available on Suroor Ltd..Rs.2500/= with delivery..03332152047

Ramazan Booking open..Rs.220 for 24 600ml or 12 ....1.5ltrs.. pure drinking mineral water with delivery..
19/03/2021

Ramazan Booking open..Rs.220 for 24 600ml or 12 ....1.5ltrs.. pure drinking mineral water with delivery..

9000 Rs. Per 40kg/=
18/03/2021

9000 Rs. Per 40kg/=

Frozen..
16/03/2021

Frozen..

10/03/2021

Awesome.. Quality Rs.900/= with delivery..

05/03/2021

Rs.1200/=

World's Best Dates available on wholesale and retail price...book now for Ramazan..
04/03/2021

World's Best Dates available on wholesale and retail price...book now for Ramazan..

12/02/2021

1- Manage product list according to vendor and category.
2 - Initial MS Office knowledge.
3 - Active,dynamic, punctual and goal oriented personality.

Multiple categories, unlimited optionsShop for anything you might need from Suroor Ltd. & get it delivered to your home ...
10/02/2021

Multiple categories, unlimited options
Shop for anything you might need from Suroor Ltd. & get it delivered to your home today.

Order everything from toys, Kurties, Suits , appliances, accessories, and cosmetics from Suroor Ltd.
08/02/2021

Order everything from toys, Kurties, Suits , appliances, accessories, and cosmetics from Suroor Ltd.

Organza mirror workKurta paired with fully embroidery organza dupata  S, M, LSale #New Year sale 2pc 25003pc price 3000W...
01/02/2021

Organza mirror work
Kurta paired with fully embroidery organza dupata
S, M, L

Sale #
New Year sale

2pc 2500
3pc price 3000

With home delivery

Address

Karachi
Karachi
75100

Telephone

+923332152047

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Suroor Ltd. posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Suroor Ltd.:

Videos

Share


Other Convenience Stores in Karachi

Show All